لکھنؤ 25 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) گورکھپور اور پھول پور لوک سبھا ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی ذلت آمیز شکست کے پس منظر میں سماجوادی پارٹی صدر اور یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے آج کہا کہ ان انتخابات نے پورے ملک کو ایک پیغام دیا ہے کہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینا نہایت ہی آسان ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ یہ جماعت ناقابلِ تسخیر نہیں ہے ۔ اکھلیش یادو نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ میں ضمنی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو ملی جیت کو بہت بڑی چیز مانتا ہوں؛ کیونکہ ان میں سے ایک نشست وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور دوسری نشست نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے چھوڑی تھی۔ جو لوگ ملک بھر میں گھوم گھوم کر بی جے پی کے لیے تشہیر کیاکرتے ہیں وہ اپنی ہی سیٹ نہیں بچا سکے ۔اس سے پورے ملک کے عوام میں ایک واضح تاثر اور پیغام کی اشاعت ہوئی ہے کہ بی جے پی کو ئی ناقابل تسخیر نہیں ہے ۔انہو ں نے یہ بھی کہا کہ کارکنوں اور عام لوگوں کے درمیان یہ یقین قائم ہے کہ اگر بی جے پی کو اس کے گڑھ میں شکست دی جا سکتا ہے تو کہیں بھی شکست دی جا سکتی ہے۔راجیہ سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی کی حمایت والے بی ایس پی امیدوار کی شکست کے متعلق اکھلیش یادو نے کہا کہ اقتدار اور سرمایہ کی طاقت کا ناروا استعمال بی جے پی کی تاریخ رہی ہے اور یہ تاریخ راجیہ سبھا انتخابات میں پھر بے نقاب ہو گئی جس کا مشاہدہ خود ملک کے عوام نے کیا ہے ۔انتخابات میں ایک دلت امیدوار کے خلاف بی جے پی کی سازش کی وجہ سے اگلے انتخابات کے لیے ایس پی اور بی ایس پی کا اتحاد اور مضبوط ہوا ہے۔میں مایاوتی جی کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ آئندہ لوک سبھا انتخابات کیلئے ایس پی کی حکمت عملی کے بارے میں پوچھے جانے پر سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے صدر نے کہا کہ زمینی سطح پر مضبوط گرفت کے علاوہ پارٹی اراکین سے کہا گیا تھا کہ وہ گاؤں گاؤں جاکر عام لوگوں سے بات چیت کریں۔ انہوں نے کہاکہ میں خود ہمارے لیڈر اور ہمارے کارکن ہرجگہ پہنچیں گے اور سماج کے تمام طبقہ سے گفت وشنید کریں گے ان کے مسائل کو جاننے کی کوشش کریں گے۔ وہ انہیں اپنے دور اقتدار میں شروع کئے گئے عوامی مفادات کے منصوبوں کے متعلق یاددہانی کرائیں گے اور موجودہ بی جے پی حکومت سے اس کا موازنہ کرنے کے لیے کہیں گے۔ بی جے پی نے کئی وعدے کئے؛ لیکن ان میں سے ایک کو بھی پورا نہیں کیا۔ لوگوں میں بی جے پی کے تئیں اشتعال ہے اور ضمنی انتخابات میں وہی ناراضگی سامنے آ گئی حتیٰ کہ بی جے پی اپنے کچھار ہی زیر ہوگئی ۔اکھلیش نے دہرایا کہ قنوج سے ممبر پارلیمنٹ اور ان کی اہلیہ ڈمپل یادو آئندہ لوک سبھا الیکشن نہیں لڑیں گی، کیونکہ ان کے خاندان پرسیاسی حریف اقربا پروری کا بدترین الزام لگا رہے ہیں؛حالانکہ انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ راج ناتھ سنگھ، کلیان سنگھ، رمن سنگھ، شیوراج سنگھ چوہان جیسے بی جے پی لیڈر کنبہ پروری کے مرتکب ہیں ۔ ان کے خاندان کے لوگ سیاست میں ہیں۔ میری بیوی الیکشن نہیں لڑیں گی، ایسے میں ان بی جے پی لیڈروں کو بھی مثال پیش کرنی چاہیے ، اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں، اور صرف الزام لگاتے ہیں، تو میں بھی اپنا رجحان بدل سکتا ہوں۔ سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات کیلئے کانگریس کے ساتھ اتحاد کے امکانات کے بارے میں پوچھے جانے پر اکھلیش نے کہا کہ انتخابات قریب آنے کے بعد ہی اس تعلق کچھ کہا جاسکتا ہے ، کانگریس کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں اور آگے بھی رہیں گے۔ ایس پی صدر نے عید نہیں منانے سے متعلق یوگی آدتیہ ناتھ کے حالیہ بیان کو غیر آئینی قرار دیا اور الزام لگایا کہ بی جے پی فرقہ وارانہ و منافرت کے اصول پر کا ربند ہے ۔